Mon Oct 26, 2026

لانا نسیبہ اقوامِ متحدہ کا سربراہ بننے کی کوشش سے گریٹر اسرائیل منصوبہ آگے بڑھا رہی ہیں، قالیباف پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام آج ایرانی قیادت سے ملیں گے فرانس میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے، جھڑپوں کے بعد سینکڑوں مظاہرین گرفتار ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے، آبنائے ہرمز پر ایران کو ویٹو پاور حاصل ہے، اوباما کا اعتراف جنگ بندی میں تمام محاذوں پر لڑائی مکمل بند ہونی ضروری ہے، عراقچی ایران نے امریکی ڈرون مار گرایا علاقائی سالمیت کے خلاف جارحانہ اقدام کا ناقابل تصور جواب دیں گے، قالیباف ٹرمپ کی اسرائیلی عوام سے نیتن یاہو کو ووٹ دینے کی اپیل ایران سے روسی سفارت کاروں اور جوہری ماہرین کے انخلا کی خبریں مسترد نئی جنگ کے اثرات تباہ کن ہوں گے، خطے کا جغرافیہ تبدیل ہو جائے گا، جنرل محبی امریکا اور اسرائیل کے خلاف ایران کی حمایت اخلاقی فریضہ ہے، اسلامک ریزسٹنس اِن عراق ولی امر مسلمین کی بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی اور جنگی نقصانات کے معاوضے کے حصول کی ہدایت اسرائیل کیلئے امریکی امداد کے خاتمے کا وقت آنے والا ہے، نیتن یاہو 30 جون تک تمام ہتھیار ریاستی کنٹرول میں لانے کا ہدف ہے، عراقی وزیراعظم امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی فوج

روزانہ کی خبریں

جی سیون ممالک کا اسرائیل کے حق میں بیان، جاپان اور کینیڈا کا دستخط سے انکار

لندن: غزہ سے حماس کے تباہ کن حملوں کے بعد جی سیون کے پانچ رکن ممالک نے اسرائیل کی حمایت میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے تاہم جاپان اور کینیڈا نے اس بیان پر دستخط نہیں کیے۔ یہ بیان فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، جرمن چانسلر اولاف شولز، اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی، برطانیہ کے وزیراعظم رشی سنک اور امریکی صدر جو بائیڈن نے جاری کیا ہے۔ دنیا کے امیر ترین سات جمہوری ممالک کی تنظیم جی سیون کے پانچ ممالک کے رہنماؤں نے ریاست اسرائیل کے لیے مضبوط اور متحد حمایت کا اظہار کیا اور حماس کے حملے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری ہیروکازو ماتسونو نے بتایا کہ جاپان گروپ سیون کے سربراہ ملک کے طور پر رکن ممالک کے ساتھ قریبی اشتراک میں کام کر رہا ہے اور امن کے حصول کے لیے ہر ملک کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’ایسا لگتا ہے مشترکہ بیان اس لیے جاری کیا گیا تاکہ اس معاملے پر ہر جی سیون رکن کے متنوع نقطۂ نظر اور موقف کی عکاسی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ’بیان میں جاپان کی عدم شمولیت کو اس کے اپنے نقطۂ نظر میں لچک برقرار رکھنے کی خواہش سے منسوب کیا جا سکتا ہے جبکہ فلسطین اور اسرائیل دونوں پر اثر و رسوخ اور ثالثی کے لیے پس پردہ کردار ادا کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیے

Most Popular