
غزہ : ورلڈ فوڈ پروگرام نے آٹے اور ایندھن کی شدید قلت کے باعث غزہ میں اپنے تعاون سے چلنے والے تمام پچیس کچن بند کرنے کا اعلان کردیا۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی نےکہا ہےکہ غزہ میں متاثرین کو گرم کھانا کسی فرد کی یومیہ غذائی ضروریات کا صرف 25 فیصد یا اس سے کم فراہم کیا جارہاہے۔ گرم کھانے کے باورچی خانوں میں اس کی موجودہ خوراک دو ہفتوں سے بھی کم عرصے تک چل سکتی ہے۔ادھر اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے بھی بچوں میں خوراک کی کمی سے متعلق ذیلی ادارے کی سرگرمیاں روک دی ہیں۔ترجمان یونیسف کاظم ابو خلاف نے کہا کہ اسرائیل نے پینتیس دنوں سے خوراک کی ترسیل روک رکھی ہے۔ جس سے صورتحال ابتر ہوچکی ہے۔
ادھر انروا نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی رسد خطرناک حد تک کم ہو رہی ہے اور صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے، اس نے اسرائیلی ناکہ بندی کو فوری طور پر ختم کرنے پر زور دیا۔


































