
برلن: جرمن رکن پارلیمنٹ سیوم ڈاگڈلین نے جرمنی سے امریکی فوجیوں اور ایٹمی ہتھیاروں کو واپس بھیجنے کا مطالبہ کردیا۔
پارلیمنٹ سے خطاب میں سیوم ڈاگڈلین نے کہاکہ امریکا کی خارجہ پالیسی جنگ،عالمی قوانین کی خلاف ورزی اورحکومتوں کےدھڑن تختے سےعبارت ہے۔ امریکی حکومت یہ تاثر دیتی ہے کہ انہیں اتحادی نہیں صرف وفادار خادم چاہئیں۔ لیکن اس خواہش کو دنیا کے بہت کم ممالک قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ امریکی فوجی اڈے علاقہ غیر کی طرح ہیں جہاں جرمن آئین کا نفاذ نہیں ہوتا۔ جرمنی کی سرزمین پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکا کو اس کی جنگوں، جان لیوا ڈرون حملوں میں معاونت دی جا رہی ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی پر جرمنی کی تابعدارانہ روش ختم ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تمام دوسرے اتحادی بہت عرصہ پہلے ہی جرمنی چھوڑ چکے ہیں۔وقت آگیا ہے کہ امریکی فوجی بھی گھر جائیں۔ امریکا کے جوہری ہتھیار بھی یہاں نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ہماری رام اشٹائن ایئربیس پر کانفرنس کی میزبانی ایسے کرتا ہے جیسے اب بھی ہم زیر قبضہ ہوں۔ رکن پارلیمنٹ نے یاد دلایا کہ ایک وقت تھا جب پارلیمنٹ میں آج سے زیادہ ہمت تھی، 2010 میں پارلیمان نے امریکی جوہری ہتھیاروں کو جرمنی سے نکالنے کیلئے قرارداد منظور کی لیکن اسے نافذ نہیں کیا جاسکا۔ان کا کہنا تھا کہ برلن اپنی جمہوری خودمختاری کا دفاع کرے، 20 سال بعد بھی آج تک وفاقی حکومت عراق پر امریکی جارحیت کی مذمت نہیں کرسکی۔انہوں نے وزیر خارجہ اینالینا بیربوک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ اب تک وکی پیڈیا کے بانی جولین اسانج کی رہائی کیلئے لابنگ کیوں نہیں کر رہیں؟ آپ منحرف ایڈورڈ اسنوڈن کو جرمنی میں پناہ کی پیشکش کیوں نہیں کرتیں۔


































