
لاہور: تحریک بیداری امت مصطفیٰ ص کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان میں ایک نیا فتنہ سر اٹھا رہا ہے، جو درحقیقت پہلے سے اپنی جڑیں رکھتا تھا، مگر اب کھل کر سامنے آ رہا ہے، اور وہ ہے صیہونیت کا فروغ، باقاعدہ طور پر صیہونیت کی تبلیغ اور ترویج کی جا رہی ہے، خصوصاً سوشل میڈیا کے ذریعے اس کیلئے زمین ہموار کی جا رہی ہے۔ مختلف طریقوں سے لوگوں کے ذہنوں میں شبہات، وسوسے اور ایک مخصوص پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مہم خاص طور پر ان طبقات میں زور پکڑ رہی ہے، جن کے دلوں میں اسلام، شہداء، مجاہدین کیخلاف بغض و عناد بھرا ہوا ہے، یہ عناصر، جو پہلے پس پردہ تھے، اب کھل کر صیہونیت کو فروغ دے رہے ہیں، خواہ وہ نادانی کی وجہ سے ہو یا مفاد پرستی کی بنیاد پر، کچھ افراد نادان اور بے شعور ہیں، جو محض اپنے چینلز اور سوشل میڈیا پیجز کی ریٹنگ کے چکر میں اس پروپیگنڈے کا حصہ بن رہے ہیں، یہ سراسر حماقت ہے اور ایسا احمق منافقین کیساتھ ملنے میں دیر نہیں لگاتا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہودیت اور صیہونیت میں فرق ہے، یہودیت ایک مذہب ہے، جس طرح عیسائیت اور اسلام ہیں، مگر صیہونیت ایک سیاسی نظریہ اور فتنہ ہے، اس کا مقصد اسلامی سرزمینوں پر، خصوصاً فلسطین میں اور مزید وسیع تر خطے میں یہودی ریاست قائم کرنا ہے، گریٹر اسرائیل کے اس منصوبے میں مصر، فلسطین، اردن، عراق، سعودی عرب، شام، اور لبنان شامل ہیں۔


































