
اسلام آباد : سعودی وزیر داخلہ پرنس عبدالعزیز بن سعود بن نائف نے ایک روزہ دورہ پاکستان کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ, صدر عارف علوی ‘وزیراعظم عمران خان ‘وزیرداخلہ شیخ رشید احمد اور وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری سے ملاقاتیں کی جس میں دوطرفہ تعلقات کا جائزہ اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط اور متنوع بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔سعودی وزیر داخلہ نے”روڈ ٹو مکہ ” پراجیکٹ میں مزید دو پاکستانی شہروں کو شامل کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان عوام کی سطح پر رابطے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کیلئے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے پرنس عبدالعزیز بن سعود بن نائف ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تو وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے نور خان ائیر بیس راولپنڈی پر سعودی وزیر داخلہ اور ان کے وفد کا استقبال کیا۔بعدازاں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف بن عبدالعزیز آل سعود نے ایوان صدر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط اور متنوع بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔جنرل قمر جاوید باجوہ سے سعودی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی ہے جس میں باہمی دلچسپی، علاقائی سلامتی اور افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، پاکستان اسلامی دنیا میں سعودی عرب کے نمایاں مقام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے سعودی وزیر داخلہ پیر نورالحق قادری کے درمیان وزارت داخلہ میں ملاقات ہوئی جس میں حج اور عمرہ کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔


































