
لندن : سعودی عرب نے یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کو رکوانے کیلئے کی دھمکیوں اور مراعات کا حربہ استعمال کیا۔یہ انکشاف برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب چاہتا ہے کہ یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائے اور نہ ہی اس معاملے کو سامنے لایا جائے ۔ سعودی کوششوں کو کامیابی اکتوبر میں اس وقت ملی تھی جب اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے جنگی جرائم کی تحقیقات کی مدت میں توسیع کیخلاف ووٹ دیا تھا یہ ادارے کی 15 سالہ تاریخ میں پہلی شکست تھی۔رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے انسانی حقوق کونسل کے ممبران پر اپنے خلاف ووٹ نہ دینے یا ووٹنگ کے موقع پر غیرحاضر رہنے کیلئے دباؤ اور مالی مراعات کا استعمال کیا۔ رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے انڈونیشیا کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے قرارداد کے خلاف ووٹ نہ دیا تو وہ اس کے شہریوں کی مکہ آمد میں رکاوٹ ڈالے گا ۔ووٹنگ کے موقع پر افریقی ملک ٹوگو نے اعلان کیا تھا کہ اسے ریاض میں نیا سفارتخانہ کھولنے کی اجازت مل گئی ہے۔ اور سعودی حکام اسے انسداد دہشت گردی کیلئے بھاری مالی معاونت فراہم کریلے گا۔ 2020 میں یمن سے متعلق قرارداد پر ووٹنگ کے موقع پر یہ دونوں ممالک غیر حاضر رہے تھے۔ جبکہ رواں سال دونوں ممالک نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا۔ اور قرارداد 18 کے مقابلے میں 21 ووٹوں سے مسترد ہوگئی۔ جبکہ 7ممالک غیرحاضر رہے۔ 2020 میں قرارداد 12 کے مقابلے میں 22ووٹوں سے کامیاب ہوگئی تھی جبکہ 12 ارکان غیرحاضر رہے تھے۔


































