
ماسکو: روس نے ہمسایہ ملک بیلاروس میں جوہری ہتھیاروں کی منتقلی اور تنصیب کا معاہدہ کرلیا۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بیلاروس کے ساتھ معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ بیلاروس میں ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار نصب کئے جائیں گے۔ اس اس طرح کے اقدام سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں ہوگی کیونکہ امریکا نے بھی یورپی اتحادیوں کی سرزمین پر جوہری ہتھیار نصب کررکھے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بیلاروس کے صدرالیگزینڈر لوکاشینکو طویل عرصے سے پولینڈ کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی تنصیب پر زور دے رہے تھے۔ روس یکم جولائی تک بیلاروس میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کی تنصیب کے لیے ڈھانچا مکمل کرے گا۔ تاہم ہتھیاروں کا کنٹرول منتقل نہیں کیا جائے گا۔ روس پہلے ہی بیلاروس میں 10 طیارے بھیج چکا ہے جو ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ روسی صدر کے اس اقدام کو نیٹو کے ساتھ بڑھتے اختلافات پر ایک تنبیہی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ امریکا نے اپنے محتاط ردعمل میں کہا ہے کہ روس کی جانب سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔


































