
امریکی ایوان نمائندگان کی ممبر الہان عمر نے بحران یمن پر اقوام متحدہ میں اس ملک کی مندوب کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی اتحاد کےلئے امریکی حمایت نے یمن میں بحران کو جنم دیا ہے نہ کہ روس نے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نے کہا تھا کہ یوکرین پر روس کے حملے کی وجہ سے یمن میں غذائی بحران اور شدید ہو گیا ہے۔
الہان عمر نے بحران یمن سے متعلق بین الاقوامی برادری کی عدم توجہ اور یوکرین میں انسانی مسائل کے تعلق سے امریکہ اور یورپ کے دوہرے معیار کا ذکر کرتے ہوئے اسلامی اور تیسری دنیا کے ملکوں پر تنقید کی۔
الہان عمر نے اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا، ”یمن میں تباہ کن انسانی بحران کی وجہ، یوکرین پر روس کا غیر قانونی حملہ نہیں ہے، بلکہ یمن پر سعودی عرب کی رہبری میں اتحاد کے وحشیانہ حملے اور یمن کی ناکہ بندی ہے جس کی وجہ سے دسیوں لاکھ افراد بھوک کا شکار ہیں اور امریکہ ابھی بھی اس اتحاد کی حمایت کر رہا ہے۔ “
الہان عمر نے لکھا کہ کسی کی غلطی کو کسی دوسرے کی گردن پر نہیں ڈالنی چاہیئے۔
اس کے علاوہ الہان عمر نے کہا کہ اگر امریکہ یوکرین میں روس کے مبینہ ظلم کی تحقیقات کرانا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے بین الاقوامی فوجداری عدالت کا ممبر بننا پڑے گا۔
ڈیموکریٹک فارمر لیبر پارٹی سے ایوان نمائندگان کی ممبر الہان عمر نے سوالیہ انداز میں کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کس طرح یوکرین میں مبینہ جنگی جرائم پر روس کے خلاف مقدمہ کر سکتے ہیں، جبکہ واشنگٹن بین الاقوامی فوجداری عدالت کا ممبر تک نہیں ہے جہاں اس معاملے کی تحقیقات ہوتی ہیں۔


































