
روس کی یوکرین میں مداخلت کی وجہ سے ماسکو کو شدید تنقید اور سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود بھی روس کو برآمدات سے ریکارڈ منافع ہوا ہے۔ فن لینڈ کےادارے سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈکلین ایئر کی رپورٹ کے مطابق، جنگ کے باوجود بھی روس کو ریکارڈ 93 ارب یورو کا منافع ہوا ہے۔ رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ روس نے جنگ کے پہلے100 دنوں میں تیل، گیس، اور کوئلے کی برآمدات سے 93 ارب یورو کمائے ہیں۔ اگرچہ روس کی فوسل فیول کی برآمدات میں حجم کے لحاظ سے کچھ کمی آنا شروع ہو گئی ہے کیونکہ کئی ممالک اور کمپنیاں روس سے تجارت کرنے سے گریز کرتی نظر آ رہی ہیں۔ لیکن فوسل فیول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے اس کمی کے اثرات کو کم کر دیا ہے۔ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ روس کی فوسل فیول کی برآمدی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے اوسطاً 60 فیصد زیادہ ہیں، حالانکہ روس تیل کی قیمت بین الاقوامی منڈی میں موجودہ تیل کی قیمتوں سے تقریباً 30 فیصد کم وصول کر رہا ہے۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یورپ کے ایسے ممالک جو کہ جنگ میں روس کا مقابلہ کرنے کے لیے یوکرین کو فوجی امداد بھیج رہے ہیں، وہ بھی روس کے توانائی کے ذخائر پر انحصار کرتے ہیں اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ یورپی یونین نے روس سے قدرتی گیس کی اپنی درآمدات کو کم کرنے کی بھرپور کوشش کی اور جنگ کے پہلے 100 دنوں میں اب تک پچھلے سال کے مقابلے میں 23 فیصد کم گیس خریدی۔ اس کے باوجود بھی روس کی سرکاری گیس کمپنی "گیز پروم (Gazprom)” کی آمدنی پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رہی کیونکہ یورپی ممالک کی جانب سے روس سے تجارت میں کی گئی کمی کو بھارت، چین اور متحدہ عرب امارات نے پورا کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت روس سے تیل درآمد کرنیوالا سب سے نمایاں ملک ہے، ان 100 دنوں میں بھارت نے روسی ایندھن کا 18فیصد حصہ درآمد کیا ہے۔ جبکہ روس یوکرین جنگ کے 100دنوں میں چین، روس سے فوسل فیول درآمد کرنے والا سب سے نمایاں ملک رہا ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات نے بھی روس سے تجارت میں کوئی کمی نہیں کی۔ اس حوالے سے سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈکلین ایئر میں ہونے والی اس تحقیق کی قیادت کرنے والی تجزیہ کار لاری میلی ورٹا کا کہنا ہے کہ روس کی آمدنی کی موجودہ شرح بے مثال ہے، کیونکہ قیمتیں بے مثال ہیں اور برآمدات کا حجم ریکارڈ پر اپنی بلند ترین سطح کے قریب ہے۔اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے یوکرینی حکّام نے ایک بار پھر دنیا بھر کے ممالک اور کمپنیوں سے روس کے ساتھ تجارت مکمل طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔


































