
مناما : بحرین میں شیعہ نوجوان محمد الموسوی کی حراست میں تشدد سے شہادت نے شدید احتجاج کو جنم دے دیا ہے۔ بتیس سالہ محمد الموسوی انیس مارچ کو سحری کے لیے دوستوں کے ساتھ نکلے تھے۔ جہاں چیک پوسٹ پر سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا۔ انسانی حقوق تنظیم کے مطابق حراست کے بعد ان افراد کو لاپتا کر دیا گیا اور اہلِ خانہ کو کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ چھبیس مارچ کو محمد الموسوی کے اہلِ خانہ کو اسپتال سے لاش وصول کرنے کی اطلاع دی گئی، جبکہ تصاویر میں جسم پر مبینہ تشدد کے نشانات دکھائی دیے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ نشانات تشدد کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم بحرینی وزارتِ داخلہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر گمراہ کن ہیں۔ شہادت کیخلاف ہنگامے پھوٹ پڑے شہری سڑکوں پر نکل آئے اور قابض حکومت کیخلاف شدید احتجاج کیا۔ احتجاج کی لہر کئی شہروں تک پھیل گئی۔
عوام کی بحرینی حکومت اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق محمد الموسوی کو ایران سے مبینہ جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ یاد رہے کہ وہ اس سے قبل بھی طویل عرصے تک جیل میں قید رہے تھے اور دو ہزار چوبیس میں شاہی معافی کے تحت رہا ہوئے تھے۔


































