
نیویارک: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کی توہین قرآن سے متعلق قرارداد پر یورپی اور مسلم ممالک آمنے سامنے آگئے۔ پاکستان نے اسلامی تعاون تنظیم کے ایما پر انسانی حقوق کونسل میں بحث کے لیے مذہبی منافرت کے خلاف ایک قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے۔ مسودہ میں یورپی اور دیگر ممالک میں قرآن جلانے کی مذمت کی گئی ہے۔ قرارداد میں قرآن سوزی کو ارحانہ اور اشتعال انگیزی قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس سے نفرت انگیزی کو ہوا ملتی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ کچھ مغربی ممالک کے سفارت کاروں نے مسودہ کی مخالفت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کے بجائے مذہبی علامت کا تحفظ قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کا تعلق مذاہب سے نہیں بلکہ انفرادی ہوتا ہے۔ انسانی حقوق کونسل کے 47 ممبر ممالک میں سے 19 او آئی سی کے ممبر ہیں۔ اس کے علاوہ چین ۔روس اور دیگر ممالک بھی قرارداد کی حمایت کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے قرارداد منظور ہونے کی توقع ہے اور اس پر مغربی ممالک کو تشویش ہے۔ یورپی یونین نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے پر اتفاق رائے پیدا کریں۔


































