
ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پانچویں بار صدر بنتے ہی نیٹو اور مغربی رہنماؤں کو تیسری جنگ عظیم کی دھمکی دے دی۔ صحافیوں سے گفتگو میں پیوٹن نے کہا کہ میری جیت روس کو مضبوط بنادے گی، روس کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ یوکرین میں امن کیلئے کس سے بات کی جاسکتی ہے۔ امن سے متعلق بات چیت کیلئے یوکرینی صدر آپشن نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حملے جاری رہتے ہیں اور روس کے دفاع کیلئے ضرورت پیش آئی تو خارکیف ریجن کے علاوہ بھی وسیع یوکرینی علاقے پر مشتمل بفر زون بنائیں گے۔ انہوں نے مغرب اور امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین میں مغربی فوج کی موجودگی دنیا کو تیسری جنگ عظیم کے دہانے پر پہنچا سکتی ہے۔ یوکرین میں اسپیشل آپریشن کے اہداف حاصل کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔روسی صدر نے چین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ چین کے خلاف پابندیاں ختم ہونی چاہیں۔ چین اور روس کے درمیان پائیدار تعلقات مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے۔ پیوٹن کا کہنا تھا کہ امریکا سمیت مغرب میں کوئی جمہوریت نہیں، روس میں انتخابی نظام امریکا سے زیادہ شفاف ہے۔ پیوٹن کا کہنا تھا کہ امریکا سمیت مغرب میں کوئی جمہوریت نہیں، روس میں انتخابی نظام امریکا سے زیادہ شفاف ہے۔


































