
اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی نے بھی آپریشن عزم استحکام کے فیصلے پر تحفظات کا اظہارکردیا۔ اےاین پی رہنما میاں افتخار حسین نے گورنرخیبرپختون خوا فیصل کریم کنڈی کے ساتھ نیوز کانفرنس میں کہا کہ آپریشن عزم استحکام یکطرفہ فیصلہ ہے۔ کسی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک میٹنگ میں بیٹھ کر مذاکرات اور آپریشن کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ معلوم نہیں کہ جنرل فیض نے کس کے کہنے پر مذاکرات کیے اور 40 ہزار دہشت گرد کس کے کہنے پر آئے؟۔۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ کاروبار نہیں چلے گا، پنجاب دہشت گردوں کا گڑھ ہے، آپریشن کا آغاز وہاں سے کیا جائے، وہاں 70 کالعدم تنظیمیں ہیں، کس نے وہاں ایکشن لیا؟۔
اے این پی رہنما ایمل ولی خان نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہر آپریشن کے دوران طالبان دہشت گردوں کو کچھ نہیں ہوتا۔ دہشت گردی کے خلاف ہیں مگر ڈرامہ بازی نہیں مانیں گے۔ لگتا ہے پھر بلوچوں پختونوں کے خون سے استحکام لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تاریخ ہے کہ ہم نے اسٹیٹ اسپانسرڈ دہشت گردی کی ہے۔ کس نے 102 دہشتگردوں کو رہا کیا،وہ اصل دہشتگرد ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیوں نہیں ہوا؟۔


































