
تل ابیب : صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے شدید عوامی احتجاج کے بعد متنازع عدالتی اصلاحات پر پسپائی اختیار کرلی۔ اسرائیل میں تین ماہ سے جاری احتجاج کے بعد صیہونی وزیراعظم کی لیکود پارٹی نے متنازع عدالتی اصلاحات کے عمل کو 2 اپریل تک آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فیصلے کےتحت قانون سازی، بشمول عدالتی اختیارات کو محدود کرنے کے منصوبے، اگلے سیشن میں طے ہوں گے۔ بنیامین نیتن یاہو دائیں بازو کے انتہاپسند اتحاد کی حمایت سے عدالتی نظام میں تبدیلی کی کوشش کررہے ہیں۔ جس سے ججوں کے اختیارات پر اثر پڑے گا اور قانون سازی کو ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کر دیا جائے گا۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کرپشن کے مقدمات میں ریلیف حاصل کرنا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپڈ نے کہا ہے کہ نظام انصاف کو قبضے میں لینے کی ایک سکیم ہے ۔ جس وقت بھی عدالتی تقرری کمیٹی میں ترمیم منظور ہوئیں اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیں گے۔


































