
راولپنڈی : اڈیالہ جیل میں قائم راولپنڈی کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں بانیٔ پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فردِ جرم عائد کر دی۔ راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے اڈیالہ جیل میں سماعت کی۔
دورانِ سماعت نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی اپنی ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ فردِ جرم عائد کرنے سے 7 دن قبل ریفرنس کی کاپیاں فراہم کرنا ہوتی ہیں، 50 کے قریب دستاویزات ایسی ہیں جو پڑھے جانے کے قابل نہیں، یہ دستاویزات اس ریفرنس سے اہمیت کی حامل ہیں، ہم فردِ جرم عائد کرنے میں کوئی رکاوٹیں کھڑی کرنا نہیں چاہتے، عدالتی وقت میں دستاویزات فراہم کر دی جائیں، ہم 7 دن بعد دوبارہ آ جائیں گے، بانی پی ٹی آئی بھی کہہ چکے کہ وہ تیزی سے کیس چلانا چاہتے ہیں، ہم نے دستاویزات کی دوبارہ فراہمی کی درخواست بھی دی ہے، عدالت فردِ جرم عائد کرنا چاہتی ہے تو اس چیز کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے، 50 کے قریب دستاویزات پڑھے جانے کے قابل نہیں لیکن پھر بھی فردِجرم عائد کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے عدالت سے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں فردِ جرم عائد کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کراتے وقت تمام ریکارڈ بانیٔ پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے وکلاء کو فراہم کر دیا جائے گا۔ فردِ جرم عائد کرنے کے بعد احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کمرۂ عدالت میں بانیٔ پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی موجودگی میں فردِ جرم پڑھ کر سنائی۔


































