
اسلام آباد: دفتر خارجہ نے امریکا کی جانب سے ہندوستان کو جدید فوجی ٹیکنالوجیز کی فراہمی کے منصوبوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خطے میں عدم توازن بڑھے گا۔ پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایسے اقدامات فوجی عدم توازن اور خطے میں اسٹریٹجک عدم استحکام کو بڑھا رہے ہیں۔ یہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کےحصول کیلئے فائدہ مند نہیں ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق ہم عالمی شراکت داروں پر زور دیتے ہیں کہ وہ جنوبی ایشیا میں امن اور سیکیورٹی کا مجموعی اور غیرجانبدارانہ جائزہ لیں اور یکطرفہ پوزیشن کی تائید کرنے سے گریز کریں۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکا ہندوستان اعلامیہ میں پاکستان کا ذکر بلاجواز، یکطرفہ اور گمراہ کن ہے۔ یہ ذکر سفارتی آداب کےخلاف ہے۔ ہم حیران ہیں کہ پاکستان کے امریکہ کےساتھ قریبی انسداد دہشت گردی تعاون کےباوجود یہ ذکر کیا گیا ہے۔ واضح رہےکہ مودی بائیڈن ملاقات کےاعلامیہ میں پاکستان میں موجود لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے انتہا پسندگ روپوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔


































