
کراچی :فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان اور امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کراچی ڈویژن کی جانب سے حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر امریکہ اور غاصب اسرائیل کے خلاف مشترکہ ریلی نکالی گئی۔ ریلی فوارہ چوک سے شروع ہو کر کراچی پریس کلب پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں سینکڑوں خواتین اور بچوں سمیت نوجوانوں نے شرکت کی۔ شرکائے ریلی نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ہم سب اسماعیل ھنیہ ہیں ، ہم سب حماس ہیں اور شہید اسماعیل ھنیہ کی تصاویر بھی تھیں۔ شرکائے ریلی نے حماس رہنما کے قتل پر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف زبردست نعرے بازی کی اور امریکی و اسرائیلی پرچم بھی جلائے۔ شرکائے ریلی سے فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کی سرپرست کمیٹی اراکین بشمول سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم، جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر معراج الہدی صدیقی، سابق رکن سندھ اسمبلی محفوظ یار خان، مجلس وحدت مسلمین سندھ کے رہنما علامہ باقر زیدی، علامہ مختار امامی، جمعیت علماء پاکستان کے علامہ قاضی احمد نورانی، ، پاکستان تحریک انصاف کے اسرار عباسی، آئی ایس او کے مرکزی صدر حسن عارف، پاکستان عوامی تحریک کے صاحبزادہ ثاقب نوشاہی، ہیومن رائٹس کونسل کے جمشید حسین، راحیلہ خان،جمعیت اہلحدیث کے مفتی مرتضی رحمانی، پاسٹر ڈینیئل سراج، ڈاکٹر زاہد علی زاہدی اور دیگر نے خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ تہران میں حماس رہنما پر حملہ کرنا تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت اسرائیل نے تمام سرخ لکیریں عبور کر دی ہیں۔ پاکستان کے عوام حماس رہنما کے قتل پر امریکہ کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ امریکی حکومت فلسطینی عوام کی نسل کشی کی ذمہ دار ہے ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ لبنان، عراق اور ایران میں غاصب صیہونی حکومت اسرائیل کے دہشتگردانہ حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل غزہ میں شکست کھا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ مزاحمتی تحریکوں کے رہنماؤں کو قتل کرنے سے فلسطینی مزاحمت ختم نہیں ہو سکتی بلکہ مزاحمت مزید طاقتور ہو گی۔
مقررین نے مزیدکہا کہ شہید اسماعیل ھنیہ ہمیشہ شہادت کے طلبگار تھے اور انہوں نے اپنی جان فلسطین کاز کے لئے قربان کر دی۔شہداء کا مشن جاری رہے گا اور فلسطینی مزاحمت بھی جاری رہے گی۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطین کے حق میں اور غاصب صیہونی حکومت اسرائیل اور امریکہ کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔


































