
نگر: گلگت میں گندم پر سبسڈی کے خاتمے کیخلاف احتجاج جاری ہے۔ نگر سے ہزاروں افراد کا قافلہ احتجاج میں شرکت کیلئے روانہ ہوگیا۔ انجمن حسینہ سپریم کونسل کی اپیل پر شرکا پیدل مارچ کرتے ہوئے گلگت پہنچیں گے۔ جہاں عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر دھرنا جاری ہے اور مختلف اضلاع سے پہلے ہی لاکھوں کی تعداد میں لوگ دھرنے میں شرکت کیلئے پہنچ چکے ہیں۔ گلگت میں مظاہرین نے 33 دن سے شاہراہ ریشم بلاک کر رکھی ہے۔ اور جمعہ اور ہفتہ کو پورے گلگت بلتستان میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی اور پورے گلگت بلتستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں ہر قسم کی کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں اور بین اضلاع سمیت بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند رہا۔
گزشتہ دو روز سے پورے گلگت بلتستان میں معمولات زندگی مفلوج اور صوبائی حکومت مکمل طور پر بے بس اور ناکام نظر آئی ہے۔ مظاہرین گندم پر سبسڈی بحال کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما نے گھڑی باغ گلگت میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور ادارے گلگت بلتستان کے جتنے قدرتی وسائل مفت استعمال کر رہے ہیں اُس کی قیمت لگائی جائے تو وفاقی حکومت آئی ایم ایف سے زیادہ جی بی کی مقروض ہوگی۔


































