
گلگت :گلگت بلتستان میں حکومت کی گندم پرسبسڈی میں کٹوتی اورناقص آٹے کی فراہمی کےخلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ روز محکمہ خوراک کے دفتر کے باہر احتجاج کیا گیا۔ مختلف علاقوں میں مظاہرین نے گندم پر سبسڈی کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں گندم کی 16 لاکھ بوریوں کی فراہمی پر سبسڈی دیتی ہے۔ البتہ اب وفاق نے اس میں کمی کر دی ہے جس کا براہِ راست اثر عوام پر ہو رہا ہے۔ پہلے گلگت بلتستان کی عوام کے لیے گندم پنجاب سے خریدی جاتی تھی۔ تاہم اس بار یہ گندم یوکرین سے درآمد کی گئی ہے۔ مقامی آبادی اس گندم کے معیار سے مطمئن نہیں ہے۔ وفاقی حکومت ہر آٹے کی مِل کو ہفتہ وار گندم کی 270 بوریاں فراہم کرتی تھی۔ یہ سلسلہ 30 نومبر تک جاری تھا البتہ دسمبر کے اوائل سے اس میں کٹوتی کر دی گئی ہے اور اب ہر مِل کر گندم کی 208 بوریاں مل رہی ہیں جس کا براہِ راست اثر عوام پر پڑے گا۔ ڈائریکٹر فوڈ گلگت بلتستان اکرام محمد کا کہنا ہے کہ وفاق گلگت بلتستان کو ایک لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کرتا ہے۔انھوں نے تسلیم کیا کہ وقتی طور پر گندم کی فراہمی میں کمی ضرور آئی ہے جس پر گلگت بلتستان کی حکومت وفاق سے بات چیت کر رہی ہے۔ پاکستان میں گندم کی کمی کے بعد حکومت کو گندم باہر سے درآمد کرنی پڑ رہی ہے جو کہ مہنگے داموں مل رہی ہے جس کی وجہ سے بجٹ زیادہ ہو گیا ہے اور گلگت بلتستان کا گندم کی خریداری کے لیے مختص کردہ بجٹ کم پڑ رہا ہے۔


































