
تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر پیش رفت ہوئی ہے۔ اسرائیل کے تین ٹی وی چینلز نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس پچاس سے سو خواتین۔ بچوں اور بزرگوں کو تین سے پانچ دن کے وقفے کے دوران مرحلہ وار رہا کرے گی۔ اس کے بدلے میں اسرائیل خواتین اور معمولی قیدیوں کو رہا اور غزہ میں اسپتالوں کو ایندھن فراہم کرے گا۔ جبکہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کا حق محفوظ رکھے گا۔ صیہونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حماس کے بعد غزہ کے بارے میں اسرائیلی اتحادیوں کے درمیان بات چیت کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں محمود عباس کی زیر قیادت فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کا کنٹرول دینے کا انکار کیا ہے۔ نیتن یاہو نے کہاکہ غزہ میں اب ایسی کوئی سویلین اتھارٹی غزہ کا کنٹرول نہیں سنبھالے گی جو اپنے بچوں کو اسرائیلیوں کے قتل اور اسرائیل کو ختم کرنے کے لیے تعلیم دے۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان نےکہا کہ ‘ہم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ اس سلسلے میں متعدد منصوبوں پر تبادلہ خیال جاری رکھے ہوئے ہیں۔


































