
تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا ہے کہ بالواسطہ مذاکرات میں کسی بھی پیش رفت کا انحصار امریکا پر ہے کہ وہ سنجیدگی اور حقیقت پسندانہ رویہ اپنائے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے رویے میں عدم مطابقت، ایران کے خلاف مسلسل دھمکیوں اور پابندیوں نے سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے امریکی عزم کے بارے میں شکوک و شبہات کو مزید ہوا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیشرفت کے لیے دوسرے فریق کی جانب سے سنجیدگی اور حقیقت پسندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران بطور این پی ٹی رکن اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرتے ہوئے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی سے استفادہ کا حق رکھتا ہے جس کے لیے افزودگی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری میں امریکہ کی ناکامی کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیگر فریقوں کو پابندیاں ہٹانے کے لیے ضمانتیں فراہم کرنی ہوں گی۔


































