
ویٹی کن : کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس اٹھاسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ویٹی کن سٹی نے ایک اعلامیے میں گہرے دکھ اور صدمے کے ساتھ پوپ کی موت کااعلان کیا۔ پوپ شدید بیماری کے باعث 38 دن تک اسپتال میں زیر علاج رہے اور تئیس مارچ کو صحت یاب ہونے کے بعد انہیں اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا۔
وہ رومن کیتھولک چرچ کے پہلے لاطینی مذہبی رہنما تھے اور 2013 میں رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ بنے تھے۔ فروری میں ہسپتال میں داخل کئے جانے سے پہلے انہوں نے غزہ میں اسرائیلی مظالم کی کھل کر مذمت کی تھی اور ایک نئی کتاب میں لکھا تھا کہ ماہرین کا خیال ہے کہ غزہ میں اسرائیلی سرگرمیاں نسل کشی کے ذمرے میں آسکتی ہیں۔ پوپ کے بیان پر اسرائیلی وزارت خارجہ نے ویٹیکن کے سفیر
کو طلب کر کے اپنی ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
تقریباً ڈیڑھ سال سے جاری جنگ میں غزہ میں واحد کیتھولک پیرش کو فون کرنا، دعائیں دینا اور دلجوئی کرنا پوپ کا مستقل معمول رہا۔ اسلام کو شدت پسندی سے جوڑنے پر انہوں نے کہا تھا کہ اگر میں اسلامی شدت پسندی کی بات کروں گا تو مجھے کیتھولک شدت پسندی کی بھی بات کرنی پڑے گی۔برطانیہ میں شاہ چارلس، فرانسیسی میں صدر ایمانوئل میکرون اٹلی کے وزیراعظم جورجیا میلونی، جرمنی کے چانسلر اولاف شولز، مصری صدر الفتح السیسی، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید، فلسطینی صدر محمود عباس سمیت عالمی شخصیات اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پوپ کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا ہے.


































