
بغداد : عراق میں پارلیمانی انتخابات کے 8 ماہ بعد بھی حکومت بنانے میں تعطل کے باعث نئے الیکشن کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ مقتدیٰ الصدر نے اپنی پارٹی کے 73 قانون سازوں کو استعفی تیار رکھنے کی ہدایت کی ہے تاکہ سیاسی تعطل کاخاتمہ کیا جاسکے۔ عراق کے لیے اقوام متحدہ کی ایلچی جینین ہینس پلاسچارٹ نے سیاسی رہنماؤں کو متنبہ کیا کہ سڑکیں ابلنے والی ہیں وسائل پر کنٹرول کے مختصر نظری خیالات نے قومی مفادات کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔ عراقی قانون ساز پہلے ہی آئین میں طے شدہ نئی حکومت کے قیام کی تمام آخری تاریخوں کوگزار چکے ہیں جس سے جنگ زدہ ملک میں جاری سیاسی بحران طویل ہوگیا ہے۔
الیکشن کے 8 ماہ بعد بھی سیاسی دھڑوں کے درمیان طویل مذاکرات کے باوجود نئے وزیراعظم کے نام پراتفاق نہیں ہوسکااور نہ کسی لیڈرنے پارلیمان میں اکثریتی ارکان کی حمایت حاصل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ عراقی قانون ساز پہلے ہی تین مرتبہ نئے صدر کے انتخاب میں ناکام ہوچکے ہیں۔آئین کے مطابق پارلیمان میں صدرکا انتخاب وزیراعظم کی نامزدگی اور اس کے بعد حکومت کے قیام سے پہلا اہم مرحلہ ہے۔اگر پارلیمانی تعطل کا خاتمہ نہیں ہوتا تو ملک میں نئے انتخابات ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لیے خود قانون سازوں کو پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے پر اتفاق کرنا ہوگا۔


































