
واشنگٹن : امریکی سینیٹ نے یمن میں وحشیانہ قتل عام اور جارحیت کو نظر انداز کرتے ہوئے سعودی عرب کواربوں ڈالر کااسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دیدی سینیٹ نے اسلحہ کی فروخت کے خلاف قرارداد کو 30 کےمقابلے میں 67 ووٹوں سے مسترد کردیا۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے سعودی عرب کو 65 کروڑ ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری دی تھی۔ معاہدے میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہیں۔ میزائل فراہم کرنے کا فیصلہ سعودی سرحد پر بڑھتے حملوں کے دعوی کے بعد کیا گیا۔ یمن سے سعودی سرحدی علاقوں میں ڈرون حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ۔صدر بائیڈن کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد امریکا اور سعودی عرب کے درمیان یہ پہلا بڑا دفاعی معاہدہ ہے. معاہدہ کے خلاف سینیٹر برنی شینڈر, رینڈ پاؤل اور جیک لی مخالفت کی تھی جسکی بائیڈن حکومت نے شدید مخالفت کی. برنی شینڈر نے سینیٹ سے خطاب میں کہا کہ امریکا کویمن میں ہولناک اور المناک جنگ روکنے کیلئے اپنی تمام طاقت استعمال کرنا چاہئے. سعودی عرب کو مزید ہتھیارفراہم کرنے کا مقصد جنگ کو بڑھاوا دینا اور بھڑکتے شعلوں پرتیل ڈالنے جیسا ہے.


































