
پاراچنار : پاراچنار میں اوچت بگن کے مقام پر دو مومنین کو شہید کردیا گیا انہیں اسی مقام پر شہید کیا گیا جہاں پر گذشتہ دنوں قافلے پر حملہ ہوا تھا۔ دونوں جوانوں کو فائرنگ کرکے پہلے شہید کیا گیا اور بعد میں لاشوں کی توہین کے بعد ان کے سرکاٹ دئے گئے۔
پاراچنار کی صورتحال انتہائی خراب ہوچکی ہے۔ کچھ ادویات پہنچائی گئی ہیں لیکن قلت برقرار ہے۔ کھانے پینے کی اشیا پہلے ہی ختم ہوچکی ہیں۔ بینکوں میں پیسے ختم ہیں۔ جس کی وجہ سے کاروبار بھی نہیں چل رہا ہے۔ پیٹرول ختم ہونے کی وجہ سے جہاں اسکول کالجز بند ہیں۔وہاں لوگ دور دور کا سفر پیدل کررہے ہیں۔
پشاور۔ اسلام آباد۔ ہنگو۔ کوہاٹ سمیت دیگر علاقوں میں اس وقت 3 ہزار سے زائد مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔ جن کے ساتھ کوئی مریض ہے یا وہ بیرون ملک سے آئے مسافر ہیں۔ وہ ہوٹلوں یا ہنگو کوہاٹ کی مساجد یا امام بارگاہوں میں مقیم ہیں۔ لیکن انکے پاس بھی اخراجات کے لیے کچھ نہیں بچا اسی وجہ سے دو نوجوان گذشتہ روز پیدل نکلے اور ان کے ساتھ سانحہ پیش آیا۔
مقامی افراد نے کہا کہ حکومت کو اسلحہ جمع کرنے کا مطلب ہے انہیں ہاتھ پاؤں باندھ کر دشمن کے حوالے کردیا جائے۔ کیونکہ دشمنوں کو افغانستان۔ ہنگو۔ وزیرستان۔ باجوڑ اور خیبر سمیت دیگر اضلاع سے دہشت گرد اور اسلحہ میسر ہیں۔ مگر پاراچنار کے شعیہ ایک پنجرے میں بند ہیں۔


































