
اسلام آباد: پاکستان نے امریکا کی جانب سے بھارت کو جدید اسلحہ کی فراہمی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا کے اس اقدام سے جنوبی ایشیا کے امن میں عدم استحکام پیدا ہو گا، پاکستان بارے بھارت امریکا مشترکہ بیان غلط اور بےبنیاد ہے،دہشت گردی سے متاثرہ ملک کے طور پر پاکستان دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کا خواہاں ہے، پاکستان دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت عوامی حقوق کی پامالی کا جواب دینے میں ناکام رہا، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی دعوت پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کا دورہ کیا، ان کے ہمراہ ایک اثعلی سطح کا وفد بھی موجود تھا، ترک صدر نے وزیراعظم اور صدر مملکت سے ملاقاتیں کی، ترک صدر نے وزیر اعظم کے ہمراہ بزنس اینڈ انویسٹمنٹ فورم سے خطاب بھی کیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے افغانستان پر بات چیت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ افغانستان کے اندر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں نہیں ہونی چاہئیں، ترک صدر نے تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات بڑھانے پر بھی زور دیا گیا، ترک سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں ، ترک صدر نے قبرص کے معاملے پر پاکستان کی حمایت پر قیادت کا شکریہ ادا کیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے لوگوں کے سعودی عرب میں آباد ہونے کی بیان کی مذمت کرتے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم کا بیان غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز ہے، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے غزہ کے معاملے پر ایران، مصر، ترکیہ، ملائیشیا، اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، اسحاق ڈار نے او آئی سی وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس بلانے کی حمایت کی ہے۔
کشتی حادثہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شفقت علی خان کا کہنا تھا کہ لیبیا کشتی حادثہ میں موجود افراد کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، لیبیا کشتی حادثہ میں 63 پاکستانی موجود تھے، 16 افراد کے لاشوں کی شناخت ہوچکی ہے، 3 زندہ افراد سفارت خانے کے پاس ہیں جبکہ 10 پاکستانی کشتی حادثے میں لاپتا ہیں۔


































