
اسلام آباد : مشیر قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نہ تو معاشی طور پر آزاد ہے اور نہ ہی اس کی خارجہ پالیسی امریکا کے اثر سے باہر ہے۔ جب تک قرضے لیتے رہیں گے ہماری خارجہ پالیسی آزاد نہیں ہوسکتی۔ قرضے لینے سے ہماری معاشی خودمختاری پر سمجھوتا کرنا پڑتا ہے۔ وسائل نہ ہونے سے عوامی فلاح اور سیکیورٹی معاملات بھی متاثر ہوتے ہیں، ہمیں اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے باہر سے قرضے لینے پڑتے ہیں چین نے نہ ہم سے کہا اور نہ ہم نے چین سے کہا کہ ایک کیمپ میں چلے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی سلامتی پالیسی کی پہلے کوئی دستاویز نہیں آئی اس کیلئے جامع قومی سلامتی کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ اس میں اقتصادی سیکورٹی، ہیومن ویلفیئر، سرحدوں کا دفاع اور فوجی سیکیورٹی ایک ہی نمونے میں آتی ہیں۔ ہم نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ قومی سلامتی کا مقصد کیا ہے آپ کو قومی سلامتی کیوں چاہئے۔اس کی بھی اس میں واضح تشریح کی گئی ہے کہ آپ کے عام شہری کا تحفظ اس کی خوشحالی اہم مقصد ہونا چاہئے۔ہماری قومی سلامتی کا جو سینٹر ہے وہ آپ کی معاشی سیکیورٹی ہوگی کیونکہ جب تک آپ کی معاشی سیکیورٹی نہیں ہے تب تک آپ دنیا پر انحصار کریں گے۔ اگرآپ دنیا پر انحصار کرتے ہیں تو خارجہ پالیسی آزاد نہیں ہے اور پھر وہ تمام مسائل جن کا ہمیں پتہ ہے۔


































