
وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ آپریشن عزم استحکام فوج کی نہیں بلکہ ہماری ضرورت ہے۔ آپریشن سے کوئی نقل مکانی نہیں ہوگی بلکہ آپریشن انٹیلیجنس کی بنیادوں پر کیا جائے گا۔ پاکستان افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ ماضی میں کیے گئے فوجی آپریشنز کے بعد دہشت گردی دوبارہ بڑھنے کی توقع نہیں تھی۔ دہشت گردی میں ایک سال کے دوران جو شدت آئی اس کے بعد نئی صف آرائی کی ضرورت تھی ۔ دہشتگردی کی حالیہ لہر سے نمٹنے کے لیے نئے جذبے اور شدت کے ساتھ آپریشن کی ضرورت ہے۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ افغانستان سے نیٹو اور امریکی افواج کے انخلا اور پی ٹی آئی حکومت کے دوران ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو واپس لایا گیا۔ امید تھی کہ افغان حکومت ہم سے تعاون کرے گی مگر وہ ٹی ٹی پی کےخلاف کارروائی کیلئےتیار نظر نہیں آئے کیونکہ وہ ان کے اتحادی تھے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشتگردی کی نئی لہر کے خاتمے کے لیے شروع ہونے والے فوجی آپریشن ذپر سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین سے مشاورت جاری رہے گی۔آپریشن عزم استحکام حکومت کی بھی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری لینی بھی چاہئیے۔


































