
جنین : صیہونی فوج کا جنین پناہ گزین کیمپ میں وحشیانہ آپریشن دوسرے روز بھی جاری رہا۔ شہدا کی تعداد دس ہوگئی ہے۔ جنین پناہ گزین کیمپ پر دوسرے روز بھی آتش وآہن برستے رہے۔ صیہونی جنگی طیاروں نے آبادی پر بم برسائے جس سے کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے جس میں سے بعض کے اعضا ضائع ہو چکے ہیں۔جبکہ بیس کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ اسے بیس سال کاسب سے بڑا آپریشن قرار دیا جارہا ہے۔فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق جنین کیمپ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ایک حقیقی جنگ ہے۔ اسرائیلی فوجی بلڈوزروں نے جنین پناہ گزین کیمپ کی طرف جانے والی متعدد سڑکوں کو تباہ کر دیا، جس سے ایمبولینسوں کا مریضوں تک پہنچنا تقریباً ناممکن ہو گیا۔ صیہونی زمینی فورس نے بھی کیمپ میں گھس کر درندگی کا مظاہرہ کیا۔ جگہ جگہ صیہونی فوجیوں نے نہتے فلسطینیوں پر گولیاں برسائیں جبکہ بعض مقامات پر مزاحمت کاروں اور فوجیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اسرائیلی فورسز نے ان خاندانوں کو بھی نشانہ بنایا جو کیمپ سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب تک تین ہزار افراد نقل مکانی کرچکے ہیں۔


































