
لاہور: مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے کہا ہے کہ عزاداری سید الشہداء کی راہ میں حائل رکاوٹیں کسی صورت برداشت نہیں، کچھ عرصہ سے عزاداری کے پروگرامز کو پابندیوں کا سامنا ہے۔ ایم ڈبلیو ایم عزاداری ونگ کے صدر ملک اقرار حسین علوی اور دیگر تنظیمات کے قائدین نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ تمام مسلمان بلا تفریق مذہب و منصب محرم کے ماہ مقدس کو استحکام پاکستان کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ یہ ایام ملی اخوت اور بھائی چارگی کا پیغام دیتے ہیں، کچھ عرصہ سے عزاداری سید الشہداء کو پابندیوں کا سامنا ہے، بانیان مجالس سے شورٹی بانڈز مانگے جا رہے ہیں جو کہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری اپنے گھروں میں برپا کرنے والوں کو ایس او پیز کے نام پر تنگ کیا جا رہا ہے، جو آئین کے پابند و پاسدار ہیں انہیں تنگ کرنا بلا جواز ہے۔
انہوں نے کہا کہ جبکہ غیر آئینی اقدامات کرنے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں، مجسٹریٹ کی جانب سے اسلام آباد میں ذاکرین و خطباء پر پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ غیر تحریر شدہ ایس او پیز جن کا کوئی وجود نہیں ان کی آڑ میں بانیان مجالس کو تنگ کیا جاتا ہے۔ سبیل لگانے کے لیئے بھی این او سی لینا پڑتا ہے جو افسوسناک ہے، خواتین کی گھروں میں مجالس کے تناظر میں مرد پولیس اہلکاران دھمکاتے ہیں جس کی مذمت کرتے ہیں۔ تمام حکومتوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرنا بند کیا جائے، ریکارڈ بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے، انتظامیہ ہوش کے ناخن لے اور اپنا قبلہ درست کرے۔
پنجاب ہائی کورٹ کے فیصلوں کے مطابق عزاداری کے لیے کسی اجازت نامے کی ضرورت نہیں۔


































