
نیویارک : اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم کے نئے منصوبوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بچوں اور خاندانوں کے لیے مسائل میں اضافہ ہو گا۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا کہ امداد کی تقسیم کیلئے ایسے حب کا استعمال بچوں اور خاندانوں کے لیے خطرات پیدا کرے گا کیونکہ وہ امداد کے حصول کے لیے جائیں گے اور مزید نقل مکانی کا باعث بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ دباؤ کے حربے کے طور پر زندگی کو برقرار رکھنے والی اشیاء پر کنٹرول کو مضبوط بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں امدادی داخلوں پر دو ماہ سے زیادہ طویل ناکہ بندی ختم کرے۔ جس سے بڑے پیمانے پر بھوک بڑھ رہی ہے اور غذائی قلت سے متعلق اموات میں اضافے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے منصوبے کا آسان متبادل یہ ہےکہ ناکہ بندی ختم اور جان بچانے کے لیے انسانی امداد کو داخل ہونے دیں۔


































