نئی دہلی (نیٹ نیوز) بھارت میں متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کیخلاف احتجاج کرنے والی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی 2 طالبات کو بھارتی پولیس نے گرفتار کر لیا۔ دیوانگنا اور نتاشا نامی طالبات نے فروری میں جعفرآباد میں دیئے گئے سی اے اے مخالف دھرنے میں شرکت کی تھی، دونوں کیخلاف درج ایف آئی آر میں سرکاری افسر کے کاموں میں رکاوٹ ڈالنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ اساتذہ یونین نے الزام لگایا ہے کہ دہلی پولیس مشرقی دہلی میں بھڑکے فسادات کو روکنے میں نہ صرف ناکام رہی بلکہ وہ تماشائی بھی بنی رہی اور اس نے الٹے ان طالبات کو جھوٹے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ طالبات کا تعلق "پنجرا توڑ” تنظیم سے ہے، جو کہ کالج کی طالبات کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتی ہے۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- نئی دہلی: متنازعہ شہریت قانون کیخلاف احتجاج، 2 طالبات گرفتار
نئی دہلی: متنازعہ شہریت قانون کیخلاف احتجاج، 2 طالبات گرفتار
-
Ilyas - مئی 25, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 14
- 0 minute read


































