
تل ابیب : اسرائیلی خفیہ ایجنسی شن بیٹ کے سابق سربراہ رونن بار نے کہا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان سے اپنے کرپشن کیس میں جھوٹی گواہی دینے کیلئے دباؤ ڈالا۔ عدالت میں جمع کرائے گئے خط میں رونن بار نے انکشاف کیا کہ رشوت خوری اور دھوکہ دہی کے مقدمے کی سماعت کے آغاز پر نیتن یاہو نے ان سے درخواست کی کہ وہ سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ہفتے میں تین بار عدالتی کارروائی کی مخالفت کریں۔ وزیر اعظم نے بار بار مطالبہ کیا کہ میں ایک رائے فراہم کروں جو اس بات کا تعین کرے کہ سیکیورٹی صورتحال مقدمے میں مسلسل گواہی دینے کی اجازت نہیں دیتی۔ بار نے کہا کہ انہوں نے جائزہ لینے کے بعد طے کیا کہ سماعتوں کو روکنے کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی۔ ان کے انکار کے بعد نیتن یاہو نے اسی طرح کی رائے کی تلاش میں اسرائیلی ہوم فرنٹ کمانڈ کا رخ کیا لیکن اسے دوبارہ مسترد کر دیا گیا۔


































