
تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی مذاکرات سے گریز نہیں کیا۔ ہمارے پاس منطق اور دلیل ہے۔ اگر مقابل فریق نا معقول اور غیر منطقی مطالبے نہ کرے تو ہم، باہمی مفادات كے حصول كے لئے ہمیشہ سفارت کاری اور مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ تاہم ہمیں امریکہ میں یہ سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ اب اگر امریکہ سے مذاکرات ہوئے تو وہ صرف جوہری پروگرام پر ہی ہوں گے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ مذاكرات میں امریکہ نے ہمیشہ میزائل پروگرام اور علاقائی مسائل اٹھائے، جن پر ہمارا موقف كسی سے ڈھكا چھپا نہیں۔ دو فرانسوی شہریوں بالترتیب "سیسیل کوهلر” و "ژاک پاریس” کی رہائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ دو شہریوں کو جاسوسی کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی تاہم انہیں اسلامی عفو و درگزر کے دائرے کے تحت رہا کیا گیا۔ صحافی نے جب اُن سے فرانس میں ایک ایرانی شہری کی آزادی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ محترمہ مہدیہ اسفندیاری آزاد ہیں اور ایران کے سفارت خانے میں ہیں۔ عدالتی کارروائی ختم ہونے کے بعد وہ واپس ملک آ جائیں گی۔


































