
جنیوا: مسلم ممالک نے قرآن کی کھلے عام اور سوچی سمجھی سازش کے تحت بے حرمتی کیخلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں سویڈن میں قرآن کی بے حرمتی کے حوالے سے مذمتی قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں ذمہ داروں کی جواب دہی کا مطالبہ کیا گیا۔ قرارداد میں ہائی کمشنر سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ستمبر اکتوبر کے اجلاس میں مذہبی منافرت کے مختلف محرکات، بنیادی وجوہات اور انسانی حقوق پر اس کے اثرات کی تازہ ترین صورتِ حال بیان کریں جو امتیاز پر اکسانے، دشمنی اور تشدد پر مشتمل ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ہیومن رائٹس چیف والکر ٹرک نے قرارداد پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر قرآن جلانے جیسے واقعات اشتعال انگیزی اور تقسیم پیدا کرنے کی سوچی سمجھی کوشش لگتے ہیں۔ انہوں نے مذہبی رواداری اور احترام کی تکریم پر زور دیا۔ پاکستانی وزیرِ خارجہ بلاول بھٹونے کہا کہ جیسے آزادئِ اظہار ناگزیر ہے ویسے ہی نفرت پر مبنی تقریر بھی ناقابلِ دفاع ہونی چاہئیے۔ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے سویڈن اور یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ ایسے واقعات کے خلاف فوری اور موثر اقدامات کریں۔


































