Thu Oct 15, 2026

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 دہشت گرد ہلاک وزارت خارجہ نے دستاویزات کی تصدیق کیلئے مکمل ڈیجیٹل نظام متعارف کروادیا اردن پر میزائل حملوں میں 200 امریکی فوجی ہلاک ہوئے، ایرانی جنرل حزب اللہ کا اسرائیلی حملوں میں تباہ گھروں کے مالکان کو معاوضہ دینے کا اعلان ترک صدر اردوان سے جو کہوں وہ وہی کریں گے، امریکی صدر امریکا ایران پر زمینی حملے کی جرات نہیں کرے گا، جنرل محمد رضا نقدی سعودی جنگی طیاروں کے یمن پر فضائی حملے آذربائیجان ، اسکولوں میں حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے ملک میں لاقانونیت ہے، بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس ترک صدر کا مکہ معاہدے کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا اعلان امریکی اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے، قالیباف ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے مکمل تیار ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعودی قیادت یمن میں شکست تسلیم اور محاصرہ ختم کرے، عراقی حزب اللہ یمنی فوج نے سعودی عرب کا مسلح جاسوس ڈرون مار گرایا خطے کے ممالک امریکا پر انحصار کرکے خود کو ہلاکت میں نہ ڈالیں، جنرل شکارچی

روزانہ کی خبریں

مبارک ثانی ضمانت کیس، سپریم کورٹ نے فیصلے سے معترضہ پیراگراف حذف کردیے

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے توہین مذہب کے ملزم قادیانی شخص مبارک ثانی ضمانت کیس میں پنجاب حکومت کی نظر ثانی درخواست منظور کرتے ہوئے سابقہ فیصلے کے دو میں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 6 فروری اور 24 جولائی کے فیصلوں سے معترضہ پیراگراف حذف کردیے۔
سپریم کورٹ میں مبارک ثانی ضمانت کیس میں پنجاب حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی درخواست پر سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ علماء اور مذہبی جماعتوں کے نمائندوں کے دلائل کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مختصر فیصلہ سنایا۔ مختصر فیصلے کے مطابق عدالت نے وفاقی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 6 فروری اور 24 جولائی کے فیصلوں سے معترضہ پیراگراف حذف کردیے۔ فیصلے کے مطابق جو پیراگراف حذف کروائے گئے ہیں وہ کسی بھی فیصلے میں بطور مثال پیش نہیں ہوں گے۔ فیصلے میں عدالت نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور علماء کی رائے کو تسلیم کیا، جبکہ سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو مقدمہ میں عائد دفعات کا قانون کے مطابق جائزہ لینے کا حکم بھی دے دیا۔ اس سے قبل سماعت کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ عدالتی فیصلے میں کوئی غلطی یا اعتراض ہے تو بتائیں، دیگر اکابرین کو بھی سنیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے چیف جسٹس سے مکالمے کے دوران کہا کہ عدالتی فیصلے پر مذہبی جماعتوں، علماء کرام نے رائے دی ہیں، جو تحفظات ہیں سب آپ کے سامنے ہیں، پہلی بار عدالت کے سامنے کھڑا ہوا ہوں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مبارک ثانی کو آپ ضمانت کا مستحق سمجھتے ہیں تو الگ بات ہے، اس کے توہین آمیز اقدامات پر مگر دفعات ساری اس پر لگیں گی، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی کمیٹی کا فیصلہ پارلیمان نے ویب سائٹ پر ابھی نہیں ڈالا مولانا فضل الرحمان نے مفتی تقی عثمانی کی گزار شات کی حمایت کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ پورے فیصلے پر نظرثانی کرے۔

مزید پڑھیے

Most Popular