
نیویارک: طالبان حکومت کے خواتین مخالف اقدامات کے باعث اقوام متحدہ نے افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی کر دی ہے۔ اقوام متحدہ نے رواں سال مارچ میں افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کی امداد سے متعلق ایک منصوبے میں 4 ارب 60 کروڑ ڈالر کے عطیات کی اپیل کی تھی۔ طالبان حکام کے خواتین کی تعلیم اور کام کرنے کےحق پر تنازع کے باعث عطیہ دہندگان نے فنڈنگ میں کمی کردی جس کی وجہ سے اقوام متحدہ امداد میں کٹوتی پر مجبور ہوگیا۔ نظرثانی شدہ فنڈنگ کی اپیل اب 3 ارب 20 کروڑ ڈالر رہ گئی۔ اقوام متحدہ کے نظر ثانی شدہ منصوبے کا مقصد جون اور دسمبر 2023 کے درمیان 2 کروڑ افغان باشندوں کو کئی شعبوں میں امداد فراہم کرنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے گذشتہ روز کہا تھاکہ طالبان کی پابندیاں افغانستان میں انسانی ہمدردی کے بحران میں ایک کردار ادا کر رہی ہیں اور نتائج کی ذمہ داری طالبان قیادت پرعائد ہوتی ہے۔ افغانستان میں کام کرنے والی ایک بین الاقوامی این جی او سیو دی چلڈرن نے خبردار کیا ہےکہ فنڈنگ کی فوری فراہمی کے بغیر ملک کو قحط جیسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔


































