
A boys mourns over the body of a loved one killed in overnight Israeli bombardment on northen Gaza, at the Ahli Arab Hospital, also known as the Maamadani (Baptist) Hospital, in Gaza City on April 3, 2025. (Photo by Omar AL-QATTAA / AFP)
غزہ : غزہ پر وحشیانہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک انتالیس ہزار سے زائد بچے یتیم ہوچکے ہیں۔ فلسطینی سینٹرل بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ غزہ کو جدید تاریخ کے سب سے بڑے یتیم بچوں کے بحران کا سامنا ہے۔ جنگ کے 534 دنوں کے دوران اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 39 ہزار 384 بچوں نے اپنے والدین میں سے ایک یا دونوں کو کھو دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سترہ ہزار بچے اپنے والدین سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ بچے المناک حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جن میں سے بہت سے شکستہ خیموں یا تباہ شدہ گھروں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، جہاں انہیں سماجی نگہداشت اور کوئی نفسیاتی مدد حاصل نہیں ہے۔ فلسطینی بیورو نے خبردار کیا کہ 60 ہزار بچے شدید غذائی قلت اور آنے والے قحط کی وجہ سے موت کے خطرے سے دوچار ہیں۔


































