
ڈھاکا : بنگلہ دیش اور بھارت میں مون سون کی بارشوں سے ہونے والی تباہی کے باعث کم از کم 41 افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔ بنگلہ دیش کے شمال مشرقی علاقوں میں کئی مقامات پر فوج تعینات کی گئی ہے جبکہ اسکولوں میں ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں۔بارشوں کے بعد سے اکثر علاقوں کا ملک کے دیگر شہروں سے زمینی راستہ منقطع ہو گیا ہے۔ماہرین کے خیال میں ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بھی سیلابوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ کثرت سے آنا شروع ہو گئے ہیں۔بنگلہ دیش کے ضلع سلہٹ کے چیف ایڈمنسٹریٹر مشرف حسین نے کہا کہ صورتحال بہت خراب ہے، 40 لاکھ سے زیادہ افراد سیلاب کے باعث بے گھر ہیں جبکہ پورے علاقے میں بجلی بھی نہیں۔ بنگلہ دیش میں سیلاب اور طوفان کے باعث اب تک 21 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب انڈیا کی ریاست میگھالیہ کے وزیراعلیٰ نے ٹویٹ کیا کہ جمعرات سے اب تک کم از کم 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ آسام میں گزشتہ پانچ دنوں سے شروع بارشوں کے باعث 18 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔آسام کے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ سیلاب میں پھنسے افراد کی مدد کے لیے ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔


































