
سری نگر: ہندوستانی حکومت اپنے زیرانتظام جموں و کشمیر کی تنظیم آل پارٹیز حریت کانفرنس پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔ وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق حریت کانفرنس پر پابندی کا اشارہ قومی تحقیقاتی ایجنسی کے حالیہ بیان سے ملتا ہے جس میں حریت کانفرنس پر دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کا براہِ راست الزام عائد کیا گیا ہے۔ این آئی اے نے کشمیر کے سرحدی ضلع کپواڑہ کےعلاقے ہندواڑہ میں معروف تاجر ظہوراحمد شاہ وٹالی کی 17 غیر منقولہ جائیدادوں کو ضبط کیا تھا۔ جبکہ ایک اور لیڈر محمد اکبر کھانڈے عرف اکبر ایاز کی سری نگر کے مضافاتی علاقے ملورہ میں املاک کو ضبط کیا گیا۔ این آئی اے نے الزام لگایا ہے کہ ظہور وٹالی مختلف غیر قانونی چینلز کے ذریعے بھاری رقوم اکٹھی کرکے انہیں حریت کانفرنس کے لیڈروں کو پہنچاتے تھے۔ ان پر پاکستانی تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ سے رقوم حاصل کرکے حریت کانفرنس کو پہنچانے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ تجزیہ کار ڈاکٹر ارون کمار کا کہنا ہے یہ تمام بیانات، الزامات اور عدالتی فیصلے عندیہ دیتے ہیں کہ حریت کانفرنس پر پابندی کی زمین ہموار کر دی گئی ہے۔ اب صرف باقاعدہ اعلان آنا باقی ہے جو وزارتِ داخلہ یو اے پی اے کے تحت کسی بھی وقت جاری کرسکتی ہے۔


































