
A handout image from Abu Dhabi Tourism Development & Investment Company (TDIC) made available on September 27, 2015 by the United Arab Emirates News Agency (WAM) shows workers placing the final piece of the outer cladding of the dome structure of the future Louvre museum still under contruction on Saadiyat island, near Abu Dhabi. The museum is expected to open by the end of 2016. AFP PHOTO / HO / WAM == RESTRICTED TO EDITORIAL USE – MANDATORY CREDIT "AFP/HO/WAM” – NO MARKETING NO ADVERTISING CAMPAIGNS – DISTRIBUTED AS A SERVICE TO CLIENTS == (Photo by – / WAM / AFP)
اسلام آباد : حکومت نے پاکستانی ورکرز کو بیرون ملک روزگار کی فراہمی اور مواقع کی تلاش کے لیے متحدہ عرب امارات سمیت پانچ ممالک کے ساتھ باہمی تعاون کی یادداشتوں پر دستخط کیے تھے تاہم کوششوں کے باوجود ان یادداشتوں کو معاہدوں کی شکل نہ دی جا سکی، ملائیشیا نے دو ہزار 336، جاپان نے 761 اور ترکی نے صرف 180 پاکستانیوں کو نوکریاں دیں، دستاویزات کے مطابق باہمی تعاون کی یادداشتوں کے تحت متحدہ عرب امارات اور عمان نے تو پاکستان کے ساتھ کیے ہوئے وعدوں کو پورا کیا اور تین لاکھ 20 ہزار میں سے تین لاکھ 17 ہزار 612 پاکستانی ورکرز کو ملازمتیں دیں،تاہم ملائیشیا، ترکی اور جاپان پاکستان کے ساتھ افرادی قوت کے حوالے سے یادداشتوں کے تحت طے شدہ ہدف پورا کرنے میں ناکام رہے اور صرف تین ہزار 277 افراد کو ملازمتیں دیں، وزارت سمندر پار پاکستانیز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کوشش کے باوجود ان یادداشتوں کو معاہدوں میں تبدیل نہیں کیا جا سکا تاہم وزارت کا کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر میں پاکستانی ورکرز کے لیے مارکیٹ تلاش کرنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں، اس سلسلے میں ایک کثیر الجہتی حکمت عملی تشکیل دی گئی ہے جس کے تحت روایتی جاب مارکیٹ سے ہٹ کر جرمنی، جاپان، کینیڈا، بلغاریہ، پرتگال اور بیلجئیم جیسے ممالک میں پاکستانی ورکرز کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جا سکیں، اس حوالے سے ان ممالک کے ساتھ سفارتی سطح پر باہمی معاہدے اور یاداشتوں پر دستخط کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔


































