
کراچی : وزیر تعلیم و ثقافت سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ ایران اور سندھ کے مابین قدیم تاریخی و ثقافتی تعلقات رہے ہیں اور فارسی 800 سال تک سندھ کی سرکاری زبان رہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں تعینات ایرانی قونصل جنرل حسن نورین سے اپنے دفتر میں ملاقات کے دوران کیا. ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے سندھ اور ایران کے مابین مختلف شعبہ جات میں ملکر کام کرنے کے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا.
اس موقع پر ایرانی قونصل جنرل حسن نورین نے وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ کو تہران میں منعقدہ ہونے والی عالمی سیاحتی نمائش میں شرکت کی دعوت دی جسے وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ نے کھلے دل سے قبول کی. ایرانی قونصل جنرل حسن نورین نے کہا کہ سندھ کے سیاحتی وفود کا ہم دل سے خیرمقدم کریں گے. اس موقع پر وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے کہا کہ ایران اور سندھ کے مابین کلچرل ایکسچینج پروگرام ہونے چاہیں اور سندھ کے فنکار ایران میں جبکہ ایرانی فنکار سندھ میں پرفارم کریں جنکو متعلقہ محکموں کی طرف سے تمام تعاون فراہم کیا جائے. انہوں نے ایرانی قونصل جنرل کو بتایا کہ محکمہ ثقافت نے حال ہی میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کا فارسی میں ترجمہ شایع کروایا ہے, جس پر ایرانی قونصل جنرل نے تعجب اور خوشی کا اظہار کیا. بعدازاں وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ نے انکو شاہ عبداللطیف بھٹائی کا فارسی ترجمہ پیش کیا تو انہوں نے بھٹائی کی شاعری پڑھ کر حیرت انگیز خوشی کا اظہار کیا. انہوں نے کہا کہ یہ فارسی ترجمہ پڑھ کر ایرانی ادیب و شعراء کو سندھ کو بہتر طور پر سمجھنے میں آسانی ہوگی اور اسی طرح عوامی سطح پر دوطرفہ تعلقات کو فروغ ملے گا.
ملاقات کے اختتام پر وزیر ثقافت سید سردار علی شاہ نے ایرانی وفد کو اجرک و کتب کے تحائف پیش کیے.


































