
جنیوا: عالمی ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ محصور غزہ کی پٹی میں طبی انخلاء میں تاخیر کے باعث ایک ہزار بانوے مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر رِک پیپرکورن نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ اصل اموات کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ یہ اعداد و شمار صرف ان اموات پر مشتمل ہیں جن کی باقاعدہ اطلاع دی جا سکی۔ بہت سے مریض ایسے بھی ہیں جو علاج کے لیے منتقل نہ ہونے کے باعث خاموشی سے دم توڑ گئے۔ انہوں نے کہا چھتیس میں سے صرف اٹھارہ اسپتال اور تینتالیس فیصد بنیادی صحت مراکز جزوی طور پر فعال ہیں۔ ایم آر آئی کی سہولت موجود نہیں جبکہ صرف دو سی ٹی اسکینرز دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ غزہ میں طبی سامان کی ترسیل کی منظوری کی شرح میں کچھ بہتری آئی ہے تاہم اس کے باوجود ادویات اور طبی آلات کی فراہمی کا عمل بلاجواز طور پر سست اور پیچیدہ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ کے مریضوں کو علاج کے لیے قبول کریں اورطبی انخلا کے عمل کو دوبارہ مغربی کنارے بشمول مشرقی بیت المقدس تک بحال کیا جائے۔


































