
واشنگٹن : امریکی محکمہ خارجہ کی تازہ ترین رپورٹ میں بھارت میں انسانی حقوق کی بڑی پیمانے پر خلاف ورزی کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ان خلاف ورزیوں میں حکومتی ایجنٹس کی جانب سے ماورائے عدالت قتل، مسلمانوں پر تشدد اور حکومتی اور غیر حکومتی قوتوں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں قتل عام جیسی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں شامل ہیں۔رپورٹ میں سینیئر امریکی اہلکار کی جانب سے انتباہ کیا گیا ہے اگر بھارت روس سے تیل کی برآمدات بڑھاتا ہے تو اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔ امریکی انسانی حقوق کے گروپوں نے اس بات پر بھی غور کیا کہ حال ہی میں بھارتی حکومت نے ریاست کرناٹک میں اسکولوں کی طلبہ پر حجاب پہننے پر پابندی عائد کی ہے۔اس اقدام کی عالمی سطح پر تنقید کی گئی لیکن ریاست کے ہائی کورٹ نے اس پابندی کو برقرار رکھا۔
امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ انہیں بھارت کے بعض حصوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے بارے میں مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔کچھ علاقوں میں مسلم برادری فرقہ ورانہ اور متعصبانہ تشدد کا شکار ہے، سال کے دوران مسلمان برداری کے خلاف جسمانی استحصال، تعصب، زبردستی نقل مکانی اور گائے کی اسمگلنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے تشدد جاری رہا۔ محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ انہیں بھارت میں بڑے پیمانے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹ موصول ہوئی ہے، جس میں قانونی اور من مانے قتل، حکومت یا اس کے ایجنٹوں کی طرف سے ماورائے عدالت قتل، تشدد اور پولیس اور جیل کے اہلکاروں کی طرف سے ظالمانہ، غیر انسانی، یا ذلت آمیز سلوک یا سزا کے مقدمات شامل ہیں۔


































