
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی رح کی 30 ویں برسی کے موقع پر لاہور میں پاسبان ملت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
شرکاء سے رفیق شہید ڈاکٹر عارف نقوی، رکن مرکزی نظارت علامہ غلام شبیر بخاری، رکن مرکزی نظارت علامہ احمد اقبال رضوی، رفیق شہید ڈاکٹر نثار علی ترمذی و دیگر رہنماؤں اور سینیئر عہدیداروں نے خطاب کیا۔ اختتامی گفتگو مرکزی صدر فخر عباس نقوی نے کی۔ کانفرنس میں علماء کرام، سابقین و مختلف قومی و ملی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ ملک کے گوش و کنار سے طلباء امامیہ نے بھی بھرپور شرکت کی۔
مقررین نے کہا کہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی رح نے نوجوانون کو نئی راہ دکھائی، آج پاکستان کا شیعہ جوان اپنی منفرد پہنچان رکھتا ہے، ڈاکٹر محمد علی نقوی کا لگایا گیا پودا، آج ایک تناور درخت بن چکا ہے، آئی ایس او کے نوجوان آج پورے ملک میں اہم ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے نوجوانوں کو استعمار کی سازشوں سے بچاتے ہوئے انہیں فکری طور پر مضبوط کیا، انہیں ہمت اور حوصلہ دیا کہ وہ تعلیمی میدان کیساتھ ساتھ ملک کے سسٹم میں بھی فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی ہی کوشش تھی کہ شیعہ نوجوان کو نئی شناخت ملے اور وہ اس میں کامیاب رہے۔
رہنماوں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر محمد علی نقوی جیسی متحرک اور فعال سماجی و روشن فکر شخصیت کی شہادت اسی جدوجہد کا تسلسل تھی، شہید ملی پلیٹ فارم کے صوبائی و مرکزی عہدیدار رہے۔ ان کی قومی و ملی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کی یاد منانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ مذہب و ملت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا جائے، وحدت و یکجہتی کو فروغ دیا جائے، باہمی پیار و محبت اور الفت کو عام کیا جائے اور باہم متحد ہوکر اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔


































