
صنعا: یمن پر عرب اتحاد کی مسلط کردہ جارحیت کے نتیجے میں غذائی قلت سے ہر دس منٹ بعد ایک بچہ موت کے منہ میں جانے لگا۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے کہا ہے کہ یمن میں پانچ لاکھ 40 ہزار سے زائد ایسے بچے غذائی قلت کا شکار ہیں جن کی عمر پانچ سال سے کم ہے اور ہر 10 منٹ بعد ایک بچہ ان مسائل کی وجہ سے مر جاتا ہے جن کو حل کیا جا سکتا ہے۔ یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ اگر فنڈز میں اضافہ نہ ہوا توبوہ یمن کے بچوں کیلئے امدادی اقدامات کم کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر ایک کروڑ 10 لاکھ بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔امدادی اقدامات جاری رکھنے لیے اس سال 48 کروڑ 40 لاکھ ڈالر درکار ہیں تاہم پچھلے ماہ سوئرزلینڈ میں کانفرنس میں اقوام متحدہ نے اپنی تمام ایجنسیز کو ایک ارب 20 کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے جس میں ہدف کے مقابلے میں چار ارب 30 کروڑ ڈالر کم ہیں۔


































