
اسلام آباد: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ پاراچنار میں وہ قوتیں فتنہ کھڑا کر رہی ہیں جنہیں امن کی نہیں جنگ کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب میں علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ پاراچنار کے حالیہ پرتشدد واقعات میں بارہ افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ پاراچنار پر چاروں طرف سے حملے کیے جا رہے ہیں، صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پاراچنار میں امن و امان کے قیام میں ناکام نظر آتے ہیں، میڈیا پر پاراچنار کے کشیدہ حالات نہیں دکھائے جا رہے۔ حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس جنگ کو بلاتاخیر روکا جائے۔ پریس کانفرنس میں وائس چیئرمین ایم ڈبلیو ایم علامہ سید احمد اقبال رضوی، مرکزی رہنما ایم ڈبلو ایم ملک اقرار حسین علوی اور رہنما مجلس علما مکتب اہلبیت علامہ عیسی امینی، پروفیسر شبیر سمیت دیگر علماء اور مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی عہدیداران بھی شریک تھے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ کرم ایجنسی میں اس وطن کے باوفا بیٹے ہیں جنہوں نے وہاں امن کو قائم رکھا انہیں وہاں سے نکالنے کی سازش ہورہی ہے۔ پارا چنار میں صوبائی حکومت بھی ناکام ہے، سیکیورٹی اداروں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہم قبرستان میں رہتے ہیں جہاں آواز سننے والا کوئی نہیں ہے۔ جو بے گناہ شہید ہورہے ہیں اس کا جواب دینا پڑے گا۔ پاکستان میں تکفیریوں کے لشکر بنائے گئے جنہیں ریاستی اداروں کا تعاون رہا ہے۔
ضلع کرم سے ممبر قومی اسمبلی انجینئر حمید حسین نے کہا ضلع کرم جنگ کی آگ میں جل رہا ہے، علاقے کے امن کے لیے پارلیمنٹ کے ہر اجلاس میں آواز بلند کرتا ہوں لیکن ایسا لگتا ہے جیسے کوئی سننے کو تیار نہیں، کرم ایجنسی کے لوگوں پر یہ جنگ زبردستی مسلط کی گئی ہے، خطے کے عوام کا یہ دو ٹوک فیصلہ ہے کہ کسی دوسری قوت کو کرم ایجنسی میں آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ زمین کے ایک ٹکڑے کے لیے انسانی جانوں کا بے دریغ قتل آخر کس کے ایما پر کیا جا رہا ہے، یہ جنگ کیوں چھیڑی گئی ہے۔ایک دن تمام مسالک مل کر امن مارچ کرتے ہیں اگلے روز نادیدہ طاقتوں کے ذریعے فتنہ برپا کرکے جنگ چھیڑ دی جاتی ہے اور لاشیں گرنے لگتی ہیں۔


































