
سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں پہلگام میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد پورے ہندوستان میں کشمیری طلبا تشدد۔ ہراسانی۔ دھمکیوں اور نفرت انگیز مہم کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔ جموں اور کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے کئی صوبوں میں کشمیری طلباء کو ڈرانے دھمکانے، بدسلوکی، اور یہاں تک کہ جسمانی حملے کے متعدد واقعات کی رپورٹ دی ہے۔ اتراکھنڈ، اتر پردیش، ہماچل پردیش، اور چندی گڑھ میں کشمیری طلباء نے ہندوتوا گروپوں کی دھمکیوں کے باعث ہاسٹل اور کرائے کی رہائش گاہیں خالی کردی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دیگر ویڈیوز میں خود ساختہ ہندوتوا لیڈروں کو زعفرانی لباس میں کشمیری طلباء کو دھمکیاں دیتے اور مسلم مخالف جذبات بھڑکاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ طلباء کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے دیگر صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی اور دیگر لیڈروں نے بھی مرکزی حکومت سے فوری کارروائی کی اپیل کی ہے۔


































