
پاراچنار : ضلع کرم کو ایک بار پھر خون میں نہلادیا گیا۔ چوبیس جولائی کو بوشہرہ اور مالی خیل کے درمیان شروع ہونیوالی لڑائی پورے ضلع میں پھیل گئی۔ فریقین ایک دوسرے کو بھاری اسلحے سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ گذشتہ رات بھی صدا کے علاقے سے پارا چنار شہر پر ایک درجن میزائل داغے گئے۔ پاراچنار پر راکٹوں اور مارٹر کے حملوں میں چھ مومنین اور پچپن زخمی ہوگئے جبکہ مخالف قبیلے کے آٹھ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ جھڑپیں بوشہرہ، ڈنڈر، بالش خیل، ہار کلے، پیواڑ۔ تری مینگل۔ سنگینہ، شپینہ اور گیدو تک پھیل گئی ہیں ۔ ضلع کرم کے 4 مقامات پر بہت شدید فائرنگ کی جا رہی ہے۔ شیعہ علاقوں کنج علیزئی اور پیواڑ پر شدید حملے کئے جارہے ہیں۔ فائرنگ کے ان واقعات اور کشیدہ صورتحال کے باعث پاراچنار مین شاہراہ پر آمدورفت بند ہوگئی ہے۔ جبکہ سینکڑوں سبزی کی گاڑیاں مین روڈ پر کھڑی ہیں۔ مبینہ طور پر تکفیریوں کی مدد کے لیے وزیرستان اور دیگر اضلاع سے طالبان کے پہنچنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کرم جاوید محسود کے مطابق ہنگو اور اوکرزئی سے گرینڈ جرگے کے اراکین سیز فائر کے لیے پہنچ چکے ہیں، سیز فائر کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ واضح رہے کہ چند ہفتوں سے اپر کرم کے علاقوں بوشہرہ اور مالی خیل کے درمیان کھیتوں میں فصل خریف کی بوائی کے مسئلے پر کشیدگی پائی جاتی تھی۔ جس میں انجمن حسینیہ اور تحریک حسینی نے مداخلت کرکے ایام عزا کے بعد یعنی 16 محرم کو مسئلہ حل کرنے کی یقین دھانی کرائی تھی۔ سرکاری ذمہ داران کے ہمراہ بوشہرہ اور مالی خیل کے عمائدین کے ساتھ مذاکرات میں طے پایا کہ عمائدین خود جا کر بدھ 24 جولائی کی شام کو مالی خیل کی ملکیتی زمین میں ٹریکٹر سے ہل چلائیں گے۔ مگر جب شام کو ہل چلانے کی غرض سے ٹریکٹر لائے گئے تو اہلیان بوشہرہ نے ٹریکٹرز واپس کرنے کی دھمکی دی جس سےحالات کشیدہ ہوگئے۔ اور فریقین نے اپنے مورچے سنبھال لئے۔ نماز مغرب کے قریب مالی خیل اور بوشہرہ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا اور جنگ چھیڑ گئی۔ چوبیس جولائی کو رات 10 بجے بالش خیل جبکہ رات کو ایک بجے تائیدہ کے محاذ پر بھی جنگ چھیڑ گئی۔ بارہ جولائی کو بھی حالات خراب ہوئے تھے تاہم مصالحت کی وجہ سے مسلح قبائل سے مورچوں کو خالی کرواکر امن کے سفید جھنڈے لہراۓ گئے اور مورچوں پر پاک آرمی، ایف سی اور پولیس جوانوں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔


































