
کراچی: ملک بھر کی طرح شہر قائد میں بھی یوم القدس پر احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ تحریک آزادی قدس کے زیر اہتمام مرکزی القدس ریلی نمائش چورنگی تا تبت سینٹر نکالی گئی۔
جس سے آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر حسن عارف، جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی، علامہ حسن ظفر نقوی، ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما و رکن سندھ اسمبلی انجینئر عادل عسکری، ہئیت آئمہ مساجد کے رہنما علامہ اصغر شہیدی، علامہ مرزا یوسف حسین، اہلسنت عالم دین مفتی فضل ہمدرد، مہاراج کونسل کے رہنما مہاراج وی جے کمار، سندھ بار ایسوسی ایشن کے رہنما عامر وڑائچ سمیت مختلف سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کیا۔
ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے آئی ایس او کے مرکزی صدر نے کہا کہ یمن کے قائد سید عبدالملک الحوثی اور ان کے مجاہدین بحیرہ احمر، خلیج عدن اور بحر ہند کے اندر امریکا، اسرائیل اور برطانیہ کے بحری جہازوں کو روک رہے ہیں، یمنیوں نے اسرائیل کی 80 فیصد تجارت کو برباد کر دیا ہے، مگر اسرائیل کی تجارت کو بچانے کیلئے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اردن اور مصر زمینی راستہ بنا رہے ہیں، تاکہ اسرائیل کی ڈوپتی تجارت کو سہارا دیا جا سکے، یہ وہ بدبخت ہیں جو مسلم امہ کے اتحاد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکریٹری جنرل ناصر شیرازی کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کو مکمل تباہ و برباد کر دیا، لیکن فلسطینی عوام کے حوصلوں کو نہیں توڑ سکا، امریکی اور اسرائیلی جانوروں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن خود جانور سے بھی بدتر ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے دینی و ملی فریضے پر عمل کرتے ہوئے فلسطین کی آزادی اور اسرائیل کی ناجائز ریاست کے خلاف آواز بلند کریں، کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ پاکستان میں اسرائیل کیلئے کام کریں۔ آج سے 45 سال قبل اسرائیل کے خلاف کوئی مؤثر قوت موجود نہیں تھی تب امام خمینیؒ نے اسرائیل کے خلاف عالمی یوم القدس منانے کا اعلان کیا۔
ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی کا کہنا تھا کہ طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کو ایک حملے میں کئی شکستیں دی ہیں، طوفان الاقصیٰ نے اسرائیل کو انٹیلی جنس، عسکری، سیاسی، معاشی سمیت کئی میدانوں میں شکست دی ہے، غزہ جنگ کے بعد یورپ کی منافقت مزید عیاں ہوگئی ہے، جمہوری اسلامی ایران سے لے کر یمن تک کے لوگ اسرائیل کے ساتھ حالت جنگ ہیں میں۔
ریلی میں خواتین، بچوں، بزرگوں اور جوانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مرکزی آزادی القدس ریلی کے آخر میں شرکاء نے امریکا و اسرائیل سے اظہار نفرت کرتے ہوئے امریکی اور اسرائیلی پرچم نذر آتش کئے۔


































